آپ کی تحریر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آپ کی تحریر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 10 جنوری، 2014

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خلیفہ اول جانشین پیغمبرامیرالمؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نامی ”عبداللہ ” ”ابو بکر” آ پ کی کنیت اور”صدیق وعتیق”آپ کا لقب ہے۔ آپ قریشی ہیں اورساتویں پشت میں آپ کا شجرہ نسب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے خاندانی شجرہ سے مل جاتاہے ۔ آپ عام الفیل کے ڈھائی برس بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ اس قدر جامع الکمالات اورمجمع الفضائل ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد تمام اگلے اور پچھلے انسانوں میں سب سے افضل واعلیٰ ہیں۔

آزادمردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اورسفرو وطن کے تمام مشاہدو اسلامی جہادوں میں مجاہدانہ کارناموں کے ساتھ شامل ہوئے اورصلح وجنگ کے تمام فیصلوں میں آپ شہنشاہ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے وزیر ومشیر بن کر مراحلِ نبوت کے ہر ہر موڑ پر آپ کے رفیق وجاں نثار رہے ۔ دو برس تین ماہ گیارہ دن مسند خلافت پر رونق افروز رہ کر ۲۲جمادی

الاخریٰ ۱۳ھ ؁منگل کی رات وفات پائی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور روضہ منورہ میں حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پہلو ئے مقدس میں دفن ہوئے ۔ (1)(اکمال وتاریخ الخلفاء)

کرامات
کھانے میں عظیم برکت

حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت کے تین مہمانوں کو اپنے گھر لائے اورخودحضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اورگفتگو میں مصروف رہے یہاں تک کہ رات کا کھاناآپ نے دسترخوان نبوت پر کھالیا اور بہت زیادہ رات گزر جانے کے بعد مکان پر واپس تشریف لائے ۔ ان کی بیوی نے عرض کیا کہ آپ اپنے گھر پر مہمانوں کو بلا کر کہاں غائب رہے ؟حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا اب تک تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا؟بیوی صا حبہ نے کہا کہ میں نے کھانا پیش کیا مگر ان لوگوں نے صاحب خانہ کی غیر موجودگی میں کھانا کھانے سے انکارکر دیا۔یہ سن کر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بہت زیادہ خفا ہوئے اور وہ خوف ودہشت کی و جہ سے چھپ گئے اورآپ کے سامنے نہیں آئے پھر جب آپ کا غصہ فروہوگیا توآپ مہمانوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھ گئے اورسب مہمانوں نے خوب شکم سیر ہوکر کھانا کھالیا۔ ان مہمانوں کا بیان ہے کہ جب ہم کھانے کے برتن میں سے لقمہ اٹھاتے تھے تو جتنا کھانا ہاتھ میں آتا تھا اس سے کہیں زیادہ کھانا برتن میں نیچے سے ابھر کر بڑھ جاتا تھا اورجب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو کھانا بجائے کم ہونے کے برتن میں پہلے سے زیادہ ہوگیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعجب ہوکر اپنی بیوی صا حبہ سے فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ برتن میں کھانا پہلے سے کچھ زائد نظر آتاہے ۔ بیوی صا حبہ نے قسم کھاکر کہا: واقعی یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا بڑھ گیا ہے ۔ پھرآپ اس کھانے کو اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لے گئے ۔ جب صبح ہوئی تو ناگہاں مہمانوں کا ایک قافلہ درباررسالت میں اتراجس میں بارہ قبیلوں کے بارہ سردار تھے او رہر سردار کے ساتھ بہت سے دوسرے شتر سوار بھی تھے ۔ ان سب لوگوں نے یہی کھانا کھایااورقافلہ کے تمام سرداراورتمام مہمانوں کا گروہ اس کھانے کو شکم سیر کھاکر آسودہ ہوگیا لیکن پھر بھی اس برتن میں کھانا ختم نہیں ہوا۔(1)

(بخاری شریف ج۱،ص۵۰۶مختصراً)

شکم مادر میں کیا ہے ؟

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ

امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مرض وفات میں اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ میری پیاری بیٹی! آج تک میرے پاس جو میرا مال تھا وہ آج وارثوں کا مال ہوچکا ہے اورمیر ی اولاد میں تمہارے دونوں بھائی عبدالرحمن ومحمداورتمہاری دونوں بہنیں ہیں لہٰذا تم لوگ میرے

مال کو قرآن مجید کے حکم کے مطابق تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے لینا۔ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ ابا جان! میری تو ایک ہی بہن ”بی بی اسماء”ہیں۔ یہ میری دوسری بہن کون ہے ؟آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری بیوی ”بنت خارجہ” جو حاملہ ہے اس کے شکم میں لڑکی ہے وہ تمہاری دوسری بہن ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ لڑکی پیدا ہوئی جن کا نام ”ام کلثوم”رکھا گیا۔(1) (تاریخ الخلفاء،ص۵۷)

اس حدیث کے بارے میں حضرت علامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ اس حدیث سے امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو کرامتیں ثابت ہوتی ہیں ۔

اول : یہ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبل وفات یہ علم ہوگیا تھا کہ میں اسی مرض میں دنیا سے رحلت کروں گا اس لئے بوقت وصیت آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایاکہ ”میرا مال آج میرے وارثوں کا مال ہوچکا ہے ۔”

دوم:یہ کہ حاملہ کے شکم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اورظاہرہے کہ ان دونوں باتوں کا علم یقینا غیب کا علم ہے جو بلا شبہ وبالیقین پیغمبر کے جانشین حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو عظیم الشان کرامتیں ہیں ۔ (2)

(ازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۲۱وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۰)

ضروری انتباہ

حدیث مذکورہ بالا اورعلامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
خلیفۂ دوم جانشین پیغمبر حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ''ابوحفص'' اورلقب ''فاروق اعظم''ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اشرافِ قریش میں اپنی ذاتی وخاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز ہیں ۔ آٹھویں پشت میں آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندانی شجرہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے شجرۂ نسب سے ملتاہے ۔آپ واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اوراعلان نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے،جبکہ ایک روایت میں آپ سے پہلے کل انتالیس آدمی اسلام قبول کرچکے تھے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلما ن ہوجانے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اوران کو ایک بہت بڑا سہارا مل گیا یہاں تک کہ حضوررحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ خانہ کعبہ کی مسجد میں اعلانیہ نماز ادافرمائی ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ شان کے ساتھ کفار سے لڑتے رہے اور پیغمبراسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تمام اسلامی تحریکات اورصلح وجنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں حضورسلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے وزیر ومشیر کی حیثیت سے وفادار ورفیق کار رہے ۔

امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب فرمایا اوردس برس چھ ماہ چاردن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت پر رونق افروز ہو کر جانشینی رسول کی تمام ذمہ داریوں کو باحسن وجوہ انجام دیا۔۲۶ذی الحجہ ۲۳ھ؁ چہار شنبہ کے دن نماز فجر میں ابولؤلوہ فیروز مجوسی کافر نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شکم میں خنجر مارا اور آپ یہ زخم کھا کر تیسرے دن شرف شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ بوقت وفات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف تریسٹھ برس کی تھی۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور روضۂ مبارکہ کے اندر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلوئے انور میں مدفون ہوئے ۔
(تاریخ الخلفاء وازالۃ الخفاء وغیرہ)

کرامات
قبروالوں سے گفتگو

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اورفرمایا کہ اے فلاں !اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ

یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیااس کے لیے دو جنتیں ہیں

اے نوجوان!بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟اس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ کا نام لے کر پکارااوربآواز بلند دو مرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطافرماد ی ہیں ۔
(حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۰بحوالہ حاکم)

مدینہ کی آواز نہاوندتک

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ 

(مشکوٰۃ باب الکرامات ، ص۵۴۶وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۰وتاریخ الخلفاء،ص۸۵)

تبصرہ
حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کرامت سے چند باتیں معلوم ہوئیں جو طالب حق کے لیے روشنی کا مینارہ ہيں۔

منگل، 24 دسمبر، 2013

حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ اللہ تعالیٰ - کالم نگار نعم احمد

حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے پیکر اور شریعت و طریقت کا حسین امتزاج تھے۔ آپ نجیب الطرفین سید تھے۔ والد ماجد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب پچیس واسطوں سے حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانیؒ کے ساتھ اور والدۂ ماجدہ کی طرف سے چھتیس واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسنؓ کے ساتھ جا ملتا ہے۔ آپ نے جس خانقاہی ماحول میں پرورش پائی‘ وہ قال اللہ تعالیٰ اور قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائوں سے مہک رہا تھا۔آپ جب بچپن کے زمانے کو یاد کیا کرتے تو فرماتے کہ ابتدائے عمر سے ہی مجھے آبادی سے وحشت اور ویرانے سے راحت کا احساس ہوتا تھا۔ چھوٹا ہونے کے باعث میرا ہاتھ دروازے کی کنڈی تک نہ پہنچ پاتا تھا‘ لہٰذا سرشام ایک لکڑی کا بنا ہاون(چٹو) دروازے کے قریب رکھ دیتا اور اندھیرا بڑھنے پر اس پر چڑھ کر کنڈی کھول لیتا اور باقیماندہ رات کبھی جنگل اور کبھی پانی کے کسی نالے میں گزارا کرتا۔ جب آپ کو قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے لئے مدرسے میں داخل کرایا گیا تو روزانہ کا سبق زبانی یاد کرلیتے۔ یوں ناظرہ قرآن مجید ختم ہوا تو سارا کلام پاک بلا ارادہ حفظ بھی ہو چکا تھا۔ آپ فرماتے تھے کہ میں نے سات برس کی عمر میں ایک خواب دیکھا جس میں شیطان نے مجھے کشتی لڑنے کو کہا۔ کشتی کے دوران جب میں شیطان کو پچھاڑ دینے کے قریب ہوتا تو اچانک پانسہ پلٹتا اور وہ مجھ پر غالب آکر گرا لینے کے قریب ہوجاتا۔ اس وقت میں اللہ کی نصرت سے ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ کا ورد شروع کردیتا تو وہ مغلوب ہوجاتا۔ تین چار مرتبہ ایسا ہوا اور بالآخر میں خدائے بزرگ و برتر کی مدد سے شیطان کو پچھاڑنے میں کامیاب ہوگیا۔بچپن سے ہی آپ کے مجاہدات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔آپ کی خوراک نہ ہونے کے برابر تھی۔ جب بھی کھانا کھاتے‘ بس ایک دو لقموں پر اکتفا کرتے۔ کئی کئی دن تک کچھ بھی تناول نہ فرماتے کیونکہ نور حق تعالیٰ اور نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی آپ کے لئے کافی و شافی تھا۔ آپ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالیشان پر درود شریف بھیجنے میں منہمک رہتے۔ اس کم خوراکی کے باوجود 71برس تک آپ کی صحت اور جسمانی طاقت قابل رشک رہی تاہم بعدازاں معدہ اتنا کمزور ہوگیا کہ کام چھوڑ گیا۔ ہچکی شروع ہوتی تو بعض اوقات اس کا دورانیہ کئی ہفتوں پر محیط ہوتا۔ علالت کے ایام میں فرمایا کرتے تھے کہ گزشتہ 36سال سے میں نے غذا تقریباً ترک کر رکھی ہے اور میری مجموعی خوراک دو یا تین چھٹانک فی ہفتہ سے زیادہ نہیں رہی۔
عام مسلمانوں کے علاوہ علمائے کرام کی ایک خاصی بڑی تعداد نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ عقیدت مندوںاور طالبانِ حق کی ضروریات کے پیش نظر آپ نے گولڑہ شریف میں مسجد‘ مدرسہ‘ مہمان خانہ اور لنگر خانہ تعمیر کرائے۔ اس مدرسے سے بلامبالغہ ہزاروں کی تعداد میں علمائے کرام فارغ التحصیل ہوئے اور درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوکر علم و عرفان کی ترویج کی خدمت انجام دینے لگے۔ اس طرح ملک بھر میں مدارس کا ایک ایسا سلسلہ معرضِ وجود میں آگیا جہاں سے آپ کی زیرنگرانی اسلامی عقائد اور تعلیمات کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھنے کی کامیاب جدوجہد کی گئی۔
حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ نے عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے ضمن میں جو خدمات انجام دیں‘ وہ ملت اسلامیہ کی تاریخ کا ایک انتہائی روشن باب ہیں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جانہ ہوگا کہ 1869ء کے اوائل میں برطانوی حکومت نے پارلیمنٹ کے ارکان‘ اخبارات کے مدیران اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد ہندوستان روانہ کیا جس کا مقصد اس بات کا پتہ چلانا تھا کہ ہندوستانی عوام میں وفاداری کیسے پیدا کی جاسکتی ہے نیز مسلمانوں کے جذبۂ جہاد کو سلب کرکے انہیں کس طرح رام کیا جاسکتا ہے۔ اس وفد نے برطانیہ واپس جاکر دو رپورٹیں مرتب کیں۔ ایک رپورٹ کا عنوان "The Arrival of British Empire in India" تھا جس میں یہ لکھا گیا کہ ’’ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنمائوں کی اندھا دُھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو حواری نبی(اپاسٹالک پرافٹ) ہونے کا دعویٰ کرے تو اُس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی مفادات کے لئے مفید کام لیا جاسکتا ہے۔‘‘ اس رپورٹ کی روشنی میں انگریز حکومت کی پشتیبانی سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور جہاد کے فرض کو سرے سے منسوخ قراردے ڈالا۔ برصغیر کے جن مشائخ عظام اور علمائے کرام نے اس فتنے کی سرکوبی کے لئے عَلمِ حق بلند کیا‘ ان میں حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ کا نام سرفہرست ہے۔ آپ نے تحریر و تقریر کے ذریعے اس کذّاب کے دعوئوں کی تردید فرمائی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اگست 1900ء میں آپ کو دعوت مناظرہ دی۔ آپ لاہور تشریف لے گئے مگر مرزا اپنی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود آپ کے مدمقابل نہ آیا۔ درحقیقت حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ کو ردِّقادیانیت کی اس جدوجہد میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی مدد حاصل تھی۔ اس عظیم المرتبت ولیٔ کامل کے مریدین اور عقیدت مندوں نے تحریک قیام پاکستان میں قائداعظمؒ کا بے لوث ساتھ دیا۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے اس مرد کامل کی حیات و خدمات کو یاد کرنے کے لئے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا جس میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ نشست کے مہمان خاص درگاہ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین پیر سید غلام معین الحق گیلانی تھے۔ اس نشست میںپہنچنے کی خاطر محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے دو مرتبہ قصد کیا مگر برادر اسلامی ملک ترکی کے وزیراعظم جناب رجب طیب اردگان کی آمد کی وجہ سے شاہراہِ قائداعظمؒ کو عوام الناس کے لئے بند کردیا گیا تھا۔ بہرحال تیسری کوشش میں پنجاب پولیس کی معیت میں وہ ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان پہنچ گئے۔ اپنے خطاب میں اس امر کا ذکر بڑے شگفتہ پیرائے میں کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ دراصل پیر صاحب نے ہی مجھے یہاں بلایا ہے۔ میرے دفتر والے تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ پولیس مجھے گرفتار کر کے لے گئی ہے اگرچہ گرفتار تو مجھے پیر صاحب نے کیا ہے۔ میرے لئے یہ بڑی عظمت کی بات ہوگی اگر میں ہمیشہ پیر صاحب کے زیرحراست رہوں۔قیامِ پاکستان میں پیرانِ کرام نے سرگرم کردار ادا کیا ہے اور حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ اِن میں سرفہرست ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو پیر سید مہر علی شاہؒ، قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان بنا دے۔نشست کے اختتام پر پیر سید غلام معین الحق گیلانی نے ملک و قوم کی ترقی و استحکام کیلئے دعا کروائی۔

بدھ، 13 نومبر، 2013

سپریم کمانڈ -----چپ کیوں ؟

اِس سے قبل کہ، وزیرِ اعظم نواز شریف کو آئی ایس پی آر کے خلاف امیر جماعت ِ اسلامی سیّد منور حسن کا خط موصول ہوتا، انہوں نے جی ایچ کیو کا دورہ کر کے پاک فوج سے اظہارِ یک جہتی کر دِیااور اعلان کِیا کہ” فوج کے شہید اور غازی ہمارے مُحسن ہیں۔ فوج کے افسران ہمارے کل کے لئے اپنا آج قُربان کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہداءہمیشہ یاد رہیں گے“۔ بات واضح ہو گئی کہ مسلم لیگ ن کے صدر نے سیّد منور حسن اور مولانا مودودی مرحوم کی یاد گار جماعت ِ اسلامی کے ” فلسفہ¿ شہادت“ کو مُسترد کر دِیا ہے۔ مَیں نے مولانا کوثر نیازی مرحوم کی تجویز پر 13 جنوری 1991 ءکو روز نامہ ” پاکستان“میں ”قاضی حسین احمد جماعت ِ اسلامی کے ”گوربا چوف“کے عنوان سے جو کالم لکِھا تھا، اب مجھے واپس لینا پڑے گا۔ نئے حالات کے مطابق مَیں اب منور حسن صاحب کوجماعت ِ اسلامی کا گوربا چوف قرار دیتا ہُوں۔ کامریڈ گوربا چوف نے سوشلزم ،سوویت یونین اور وہاں کے عوام کے ساتھ جو کُچھ کِیا وہی کُچھ اب سیّد منور حسن اسلام، پاکستان اور یہاں کے عوام کے ساتھ کررہے ہیں۔
” نوائے وقت“ کے 12نومبر کے ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہے کہ” جماعت ِ اسلامی نے تحریک ِآزادی میں حِصّہ لِیا نہ قیامِ پاکستان کی حمایت کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اُس نے استحکامِ پاکستان کے لئے ضرور کام کِیا۔ تحریک ِ پاکستان سے لاتعلقی کا اُس کی قیادت کے پاس آج تک کوئی بھی جواب نہیں ہے۔ اب جب کہ قوم جماعت ِ اسلامی کے اِس کردار کو فراموش کر رہی ہے تو سیّد منور حسن کے بیان نے تحریک ِ آزادی سے آگاہ اکابرین اور طالب علموں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دِیا ہے کہ کِیا جماعت ِ اسلامی قیامِ پاکستان سے قبل کی سوچ کی آج بھی اسیر ہے ؟“۔ جماعت ِ اسلامی نے مولانا مودودی کی زندگی میں ہی 2 جنوری 1965 ءکے صدارتی انتخاب میں صدر ایوب خان کے مقابلے میں ،مادرِ ملّت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کی حمایت کر کے ” سجدہ سَہو“ توکر لِیا تھا، لیکن یہ اعلان کر کے کہ ” ایوب خان میں کوئی اور خوبی نہیں سوائے اِس کے کہ وہ مرد ہیں اور محترمہ فاطمہ جناح ؒ میں کوئی اور خامی نہیں سوائے اس کے کہ وہ عورت ہیں“۔ گویا مولانا مودودی اور اُن کی جماعت کے نزدیک عورت ہونا ” خامی“ ہے۔
مولانا مودودی نے اپنی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ”ترجمان اُلقرآن“ لاہور کے نومبر 1963ءکے شمارے میں لکِھا ” ہم اِس بات کا کُھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں کہ تقسیمِ مُلک (ہندوستان)کی جنگ سے ہم غیر متعلق رہے۔ اس کارکردگی کا سہرا ہم صِرف ( آل انڈیا) مسلم لیگ کے سرباندھتے ہیں اور اِس میدان میں کسی حِصّے کا اپنے آپ کو دعوے دار نہیں سمجھتے“ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا مودودی نے ”تقسیمِ مُلک“ کی ترکیب استعمال کی اور ’قیامِ پاکستان“ کی ترکیب استعمال کرنے سے گریز کِیا۔ جماعت ِ اسلامی کی جمہوری عمل میں شمولیت کا خیر مقدم کِیا گیا۔” مادرِ ملّت ؒ کی حمایت کرنے پر، عوام مولانا مودودی کی قائد ِ اعظم ؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ کے خلاف تحریروں کو وقتی طور پربُھول گئے تھے جِن میں مولانا نے پاکستان کو ” درِندے کی پیدائش“ اور ”نا پاکستان“ کہا تھا۔ مختلف ادوار میں اقتدار میں آنے والی مسلم لیگوں کی نظریاتی کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہُوئے جماعت ِاسلامی کے اکابرین نے دو قومی نظریہ تحریک ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کا کریڈٹ بھی مولانا مودودی کو دینا شروع کر دِیاتھا۔
26 اگست کو 1991 ءکو ( جماعت ِ اسلامی کے 50 ویں یومِ تاسیس پر) امیر جماعت ِاسلامی قاضی حسین احمد نے اپنا ایک مضمون قومی اخبارات میںچھپوایا جِس میں کہا گیا تھا کہ ” علّامہ اقبالؒ نے بھی اُمید کی ایک شمع روشن کر رکھی تھی، لیکن اُن کا کام صِرف پیغام تک محدود تھا۔ اِن حالات میں خالص دِین کی بنیاد پر مُسلمانوں کی صف بندی کرنے کی عملی تحریک برپا کرنے کی سعادت مولانا مودودی کے حِصّے میں آئی“ اُسی روز باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں جلسہ¿ عام سے خطاب کرتے ہُوئے جماعت ِاسلامی کے ریٹائرڈ امیر میاں طفیل محمد نے کہا”تحریک ِ پاکستان کے دوران مُسلمانوں نے کبھی یہ ہمت نہیں کی کہ وہ ایک اسلامی جماعت بنا کر پاکستان کے لئے جدوجہد کریں، صِرف مولانا مودودی نے اِس کی کوشش کی“ جماعت ِ اسلامی کے نائب امیر چودھری رحمت الٰہی نے اپنی تقریر میں کہاکہ ”جماعتِ اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں قیامِ پاکستان کی راہ ہموار ہُوئی“ مَیں نے اپنے کالم میں جو 30 اگست 1991ءکو روز نامہ ” نوائے وقت“ میں شائع ہوا۔ تاریخی حوالوں سے قائدِ اعظمؒ اور تحریک ِ پاکستان میں مولانا مودودی کے کردار کو واضح کر دِیا تھا۔
پاکستان کی سیاست میں جماعتِ اسلامی کو ہمیشہ امریکہ کی سرپرستی حاصل رہی ۔ یہ جماعتِ اسلامی کے ” مجاہدین“ ہی تھے کہ جنہوںنے، افغانستان میں” مُلحد سویت یونین“ کے خلاف ”جہاد“ بھی ” اہلِ کتاب“ (عیسائیوں اور یہودیوں) کے ساتھ مِل کرامریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی کمان میں کِیا تھا، جِس کے نتیجے میں پاکستان میں35 لاکھ افغان ”برادرانِ اسلام“ پاکستان میں ہیروئین اورکلاشنکوف کلچر لائے اور اصل پاکستانی (بہاری) اب بھی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں عُسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اوراب وطنِ عزیز میں دو قومی نظریہ کے مخالف اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے کے لئے ہمارے فوجیوں اور معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد تو خیر خود پختون تھے اور اُن کے لہجے میں بڑی گھن گرج تھی، لیکن نستعلیق اردو بولنے والے دہلوی سیّد منور حسن کو کیا ہو گیا؟۔وہ تو پنجابی فلموں کے اداکاروں سُلطان راہی اور مصطفی قریشی کی طرح بھڑکیںمار رہے ہیں۔
کُچھ دِن پہلے منور صاحب نے کہا تھا کہ” اگر مجھے 10 ہزار رضا کار مِل جائیں تو مَیں نیٹو سپلائی بند کرا سکتا ہوں“ حیرت ہے کہ 72 سال پہلے قائم ہونے والی جماعتِ اسلامی کے پاس 10 ہزار رضاکار بھی نہیں ہیں؟۔ آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں نہ جانے کس غلط فہمی کی بنا پریہ جملہ بھی شامل کر دِیا گیا کہ ”اسلام کے لئے خدمات کے باعث مولانا مودودی کا احترام کِیا جاتا ہے؟۔ سوال یہ ہے کہ جب اسلام کی خدمت کے لئے قائد ِ اعظم ؒ کی قیادت میںاسلامیانِ ہندقیامِ پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو مولانا مودودی اُن پر اور آل انڈیا مسلم لیگ پر رقیق حملے کیوں کر رہے تھے؟۔وزیرِ اعظم اگر مسلم لیگ کو علّامہ اقبالؒ اور قائد ِ اعظم ؒ کو افکار و نظریات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں تو انہیں تحریک ِ پاکستان کی مخالف جماعتوں کو فاصلے پر رکھنا ہو گا اور اُن مذہبی پریشرگروپوں کو بھی جو اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے والے طالبان کو طاقتور بنا رہے ہیں۔ بائی دی وے یہ پاکستان کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر جناب ممنون حسین صاحب اِن دِنوں کہاں ہیں؟ جو جب چاہیں ایسے مسائل پر بیان تو جاری کر دیتے ہیں جو اُن کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ لیکن موصوف نے پاک فوج کے شُہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے چُپ کا روزہ کیوںرکھا ہُوا ہے؟۔ اُستادجلالنے کہا تھا ....
”چُپ لگ گئی ہے اے دِلِ شیدا تجھے یہ کیوں
لِلّہ! کُچھ تو کہہ، کِسی پُرسانِ حال سے! “

جمعرات، 7 نومبر، 2013

کہیں پرچہ لگے ، خبر گُزرے - کالم نگار | اثر چوہان - نواۓ وقت اخبار

قومی اخبارات میں ہر روز اور الیکٹرانک میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ۔ خبروں کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ…ع ’’ خبروں ‘‘ کے انتخاب نے،رسواکیا مجھے ‘‘
کی صورت ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی ایک ہی خبر کو موضوع بنا کر کالم لکھتے وقت یو ں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ’’ پانی میں مدھانی‘‘ گھما رہا ہوں یا لفظوں کی جُگالی کر رہا ہوں۔اس عمل کو کالم کا پیٹ بھرنا بھی کہاجاسکتا ہے،جیسے سرکاری دفتروں میں ’’ فائل کا پیٹ بھرنا‘‘ کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔اکثر و بیشتر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مختلف قائدین کی تقریروں میں بھی یہی فارمولا استعمال ہوتا ہے تو صاحبو!آج کے کالم میں کئی خبروں کو موضوع کیوں نہ بنایاجائے؟ اُستاد سحرؔ نے کہا تھا…؎
’’ بے محل عاشقی سے،درگُزرے ۔۔۔۔ کوئی پرچہ لگے، خبر گُزرے‘‘
خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ایک صحافی کے اس سوال کے جوا ب میں کہ ’’ کیا حکیم اللہ محسود ہلاک ہوا ہے یا شہید؟ کہا ’’ امریکہ اگر کسی کتے کو بھی ہلاک کردے تو میں اسے بھی شہید ہی کہوں گا‘‘مولانا صاحب کے اس بیان یا فتوے کواُن کا ’’اجتہاد‘‘ ہی کہاجاسکتا ہے۔اب مولانا فضل الرحمن اور دوسرے علماء دین سے پوچھا جاسکتا ہے کہ’’ فرض کیا پاکستان کے کسی گلی محلے میں گھومنے پھرنے والا یا کوئی پالتو کُتا کسی امریکی سیّاح،مہمان یا سفارت کار کو کاٹ لے اور وہ امریکی اُس کتے کے کاٹنے سے مر جائے تو کیا اُس کتے کو ’’ غازی‘‘ کہاجاسکتا ہے ؟۔ہمارے یہاں گھوڑے کو تو پہلے ہی ’’غازی مرد‘‘ کہاجاتا ہے۔
عام طورپر کُتے کو ناپاک جانور سمجھاجاتا ہے،لیکن ’’ اصحابِ کہف‘‘ کے کُتے کو قابلِ عزت سمجھاجاتاہے۔اصحاب کہف( وہ سات اشخاص) جو دقیانوس بادشاہ کے خوف سے غار میں چھپ کر تین سو نو برس تک سوتے رہے۔مولوی نور الحسن نیّر نے اپنی ’’نوراللغات‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ علماء نے اصحاب کہف کے کُتے کو انسان کے زمرے میں داخل کیا ہے‘‘ بہرحال مولانا فضل الرحمن کی طرف سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کیا امریکی حملے سے ’’ شہید‘‘ ہونے والے کُتے کی نمازِ جنازہ اور باقاعدہ تجہیزو تکفین بھی ہوگی؟۔
6نومبرکے ’’ سیاست نامہ ‘‘ میں مَیں نے لکھا تھا کہ متحدہ مجلسِ عمل کے اکابرین کے ایک دوسرے کے خلاف کُفر کے فتوے ریکارڈ پر ہیں لیکن متحدہ مجلس عمل کے قائدین ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے ہیں۔اِس پر ڈائریکٹر آپریشن المرکز اسلامی مفتی محمد تصّدق حسین صاحب(والٹن لاہور) نے مجھے وضاحت(بذریعہ ایس۔ایم۔ایس) بھجوائی ہے لکھتے ہیں۔
(’’جناب اثر چوہان صاحب۔آپ کے آج کے کالم میں ایک جملہ نظر سے گزرا کہ ’’ متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام دینی جماعتوں کے اکابرین نے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دئیے ہیں اور سب قائدین ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے تھے ‘‘۔آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ جملہ صحیح نہیں ہے۔اہلِ سنت حنفی( بریلوی) کے ترجمان۔امام شاہ احمد نورانی نے کبھی کسی بد عقیدہ شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔مملکت اسلامیہ کے مفاد کی خاطر وہ اتحاد کے داعی رہے لیکن وہ نماز کی امامت خود کرواتے تھے۔تاریخ درست فرمادیں بے حد شکریہ)مفتی تصدق حسین0321-4749168
میں مفتی صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے وضاحت فرمائی اس بات کی کہ ’’امام شاہ احمد نورانی نے متحدہ مجلسِ عمل میں شامل کسی بھی ’’ بد عقیدہ امام‘‘ کی اقتداء میں نماز کبھی نہیں پڑھی بلکہ وہ وقتِ نماز خود امامت کرواتے تھے‘‘۔
خبر ہے کہ’’ وزارتِ دفاع نے اعتراف کرلیا ہے کہ ڈرون حملوں کے بارے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعدادو شمار غلط اور جعلی ہیں‘‘۔مرزا غالب نے کہا تھا…؎
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ ۔۔۔۔ لوگ نالہ کو رسا باندھتے ہیں
بھلا غلط گوئی اور غلط بیانی پر مسماۃ وزارتِ دفاع کو کون پکڑے گا کہ محترمہ جناب وزیراعظم کے عقدِ سیاسی میں ہیں۔مسماۃ وزارتِ خارجہ اُن کی سوتن ہیں۔اُن کا بھی یہی چلن ہے۔وہ وقت بہت دور ہے جس کی آس میں حضرتِ آتش چل بسے…؎
’’سکۂ داغِ وفا اِک دن ،مرے کام آئیںگے ۔۔۔۔ عشق کے بازار میں، اُن کا چلن ہوجائے گا‘‘
خبر ہے کہ ’’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی۔ایم۔ایف) پاکستان کے گردشی قرضے کے دوبارہ 160 ارب تک پہنچنے پر پریشانی کا شکار ہے ‘‘ خبر میں وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار کا بھی تذکرہ ہے جو بذریعہ کلاسیکی موسیقی، دم توڑتی ہوئی معیشت کو تندرست کرنے کی نوید دیتے رہتے ہیں اور موصوف نے باقی معاملہ آئی۔ایم۔ایف حکام پر چھوڑ دیا ہے یعنی ’’ یک دو گیر و محکم گیر!‘‘…مرزا داغؔ دہلوی کا بھی یہی مسلک تھا،جب انہوں نے کہا …؎
’’ وہ سمجھے کیا، فلک کینہ خواہ کی گردش ۔۔۔ اُٹھائی جس نے،تمہاری نگاہ کی گردش‘‘
خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) نے وزیراعظم نواز شریف سے دوبارہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئر مین شپ مانگ لی ہے ‘‘۔ اس پر ایک انگریزی پنجابی ملا جلا ماہیا ہوجائے…؎
’’ حاضر اے دل ماہیا
GIVE AND TAKEکرئیے
اَیویں سُکّے تے نہ مِل ماہیا‘‘
پیپلز پارٹی کے راہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ’’چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں’’مگر مچھ کے آنسو بہائے !‘‘ اگرچہ معاملہ دو چودھریوں کا ہے لیکن میں تو یہی کہوں گا کہ ہمارے ہاں’’مگر مچھ‘‘ تو ہوتا ہی نہیں ! 

اتوار، 3 نومبر، 2013

شیطانی توحید کے علمبردار

مسلمان اپنے دین پر عمل کرنے کی بجائے اغیار کے اعمال میں اپنی فلاح ڈھونڈ رہے ہیں۔ توحید باری تعالیٰ اور سنت رسول اللہ  پر عمل پیرا ہونے کی بجائے شرک اور بدعات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جسے بدقسمتی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

تبلیغی جماعت کی بنیاد 1930ءمیں مولانا محمد الیاس نے بستی نظام الدین دہلی میں رکھی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد 1952ءمیں حاجی محمد عبداللہ میواتی نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے لئے رائے ونڈ میں اپنی ذاتی جگہ وقف کر دی۔ اس وقت اجتماع میں صرف 100سے کچھ زائد افراد شریک ہوتے تھے، بعد ازاں 1981ءمیں تبلیغی جماعت کی انتظامیہ نے سندرروڈ پر 150ایکڑ اراضی خرید لی۔ 65سالوں سے وطن عزیز میں تبلیغی اجتماع منعقد ہو رہا ہے اور اس میں ملکی و غیرملکی لاکھوں افراد شرکت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع میں اس مرتبہ بھی لاکھوں افراد نے شرکت کی جن سے خطاب کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب، مولانا طارق جمیل، مولانا احسان الحق، مولانا احمد لاٹ اور دیگر نے بڑی فکرانگیز باتیں کیں۔

لو بھئی مسلمانو! اب آپ سب پر (یا کم از کم اہل سنت وجماعت پر جو کلمہ گو ہیں اور پوری دنیا میں حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی مذاہب کی صورت میں سواد اعظم ہیں) ایک بار پھر اعلانیہ طور پر شرک اور بدعت کی فتوی نما تہمت لگا دی گئی ہے۔ کیونکہ فتوی تو مسلمان مفتی کا ہوتا ہے اور سب سے بڑی اس جماعت کو (جو اہل سنت بھی ہے اور نہ مشرک نہ ہی بدعتی ہے) مشرک کہنے دینے والے کی بات کو فتوی تو کہا نہیں جا سکتا۔
سوال: اب یہ لاٹ صاحب آئے کہاں سے ہیں؟ بھارت سے! ان کو یہاں پاکستان میں آکر مسلمانوں کو مشرک کہنے کی اجازت کیسے ملی؟
جواب: بین الاقوامی اور ملکی سیاست دانوں کی آشیر باد سے!
سوال: تو اب جنہیں مشرک اور بدعتی کہا گیا ہے وہ کیا کریں؟
جواب: بھئی ان کا ایک عالم دین مفتی عمر رضا خان قادری پچھلے دنوں بھارت سے یہاں ختم نبوت کانفرنس میں خطاب کرنے آیا تھا، ملکی انتظامیہ نے کراچی میں روکے رکھا!
سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو بدعتی کیوں کہا گیا؟
جواب: کیوں کہ مسلمان میلاد نبی کی محفلیں اور جلسے جلوس منعقد کرتے ہیں جو کہ حضرت حسان بن ثابت والی نعت (واحسن منك لم ترقط عيني  وأجمل منك لم تلد النساء خلقت مبرأ من كل عيب كأنك قد خلقت كما تشاء) سے ثابت ہیں اور جلوس اس دن کا ثابت ہے جب 12 ربیع الاول پیر والے دن آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آئے تھے اور مدینہ میں داخل ہو رہے تھے۔ اس وقت مدینہ کی بچیوں نے بھی وہ مشہور زمانہ کلام پڑھا (طلع الـبدر عليـنا, مـن ثنيـات الوداع. وجب الشكـر عليـنا, مـا دعــــا لله داع)
سوال: اور مسلمانوں کو مشرک کیوں کہا گیا؟
جواب: یا رسول اللہ پکارنے کی وجہ سے! جو کہ جنگ یمامہ میں صحابہ کرام سے ثابت ہے جو کہ سن 13 ہجری میں بعد از وصال نبوی ہوئی تھی مسیلمہ کذاب کے خلاف۔ 

جمعرات، 31 اکتوبر، 2013

ترکھاناں دا منڈا...افکار مسلم...ازقلم...عبدالرزاق قادری

دنیاکی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بے شمار ایسے بادشاہوں کے تذکرے ملتے ہیں جو مطلق العنان بنے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ تاریخِ اسلام میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ ان میں 40 برس تک حکومت کرنے والے بھی ہیں۔ ان کے دربار میں چاپلوسی کرنے والے وزیر، مشیر اور مسخرے انہیں شہنشاہوں کے شہنشاہ! بادشاہوں کے بادشاہ! اور دیوتاؤں کے دیوتا جیسے القابات سے پکارتے تھے۔ وہاں کسی پرندے کو پر مارنے کی مجال نہ ہوتی تھی۔ ان کے حکم سے لوگ سال تک جیلوں میں قید رہتے ۔ وہ دنیا جہاں کو بدل دینے کے دعوے کرتے تھے۔ ان کے نام کے سکے رائج رہے۔ وہ لوگوں کے خدا بننے کی کوشش کرتے۔ عوام الناس کی زندگیوں کے فیصلے ان کی ایک جنبش ابرو میں بدل جاتے۔ آج ان کا نام جاننے والا کوئی نہیں۔ ان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والا کوئی نہیں۔ حتیٰ کہ آج کے دور کے حکمران بھی اپنے پیشروؤں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں ان موجودہ حکمرانوں کو جاننے والا بھی کوئی موجود نہ رہے۔ لاہور میں جہانگیر بادشاہ کا مقبرہ ہے اس کی بیگم نورجہاں(زیب النساء) اور نورجہاں کے بھائی آصف کابھی۔ جہانگیر کی وفات کے بعد اُسے نورجہاں نے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ چہار باغ میں دفنایا ہو گا۔ اور اپنی قبر کے بارے میں وہ خود ہی لکھ گئی تھی کہ وہاں کوئی چراغ نہ جلے گا۔ مقبرہ جہانگیر لاہور میں جانے کے لیے چند روپے کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے مگر بہت سے مقامی لوگ عقبی جانب سے بغیر ٹکٹ کے داخل ہوتے ہیں۔ لڑکے بالے وہاں کرکٹ کھیلنے آتےہیں۔ دیگر لوگ سیرسپاٹے کی غرض سے وہاں جاتے ہیں۔

لیکن آئیں آپ کو اسی لاہور میں ایک اور مقبرے پر آنے کی دعوت ہے۔ پونے دس صدیاں پہلے ایک بزرگ سید علی بن عثمان ہجویری نے مسعود غزنوی کے عہد میں لاہور شہر کی فصیل کے باہر دریا کنارےڈیرہ لگایا تھا۔ اس بابے نےکبھی کسی کا رب بننے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن مفتی اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد ارشد القادری کے بقول


"اتنی بڑی بارگاہ میں کھڑا ہوں! جہاں اللہ کے اولیاء، اللہ کے اولیاء فیض لینے آتے رہے! یہاں خواجہ اجمیری فیض لینے آئے! یہاں فریدالدین گنج شکر فیض لینے آئے! بڑے بڑے حضرات یہاں فیض لینے آتے رہے کہ یہ بارگاہِ گنج بخش ہے! "
اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا

گنج بخش فیض عالم ،مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما

حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ جوتے اتار کر داتا کی نگری میں آتے تھے۔ بڑے بڑے بادشاہوں نے اس درگاہ پر حاضری دی۔ اور ان کے مزار کی سیڑھیوں میں دفن ہونا اپنے لیے سعادت سمجھا۔ سوال تو یہ ہے کہ اتنی صدیاں پہلے وفات پانے والے بزرگ سے ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کا رشتہ کیا ہے جو وہاں حاضری دیتے آرہے ہیں؟ خواجہ اجمیری سے آج کے نومسلم کا کیا رشتہ ہے؟ غوثِ اعظم سرکار شیخ سید عبدالقادر جیلانی سے دنیا بھر کے مسلمانوں کا رشتہ کیا ہے؟ مجدد اعظم شیخ احمد فاروقی سرہندی سے کیا رشتہ ہے؟ شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے کیا رشتہ ہے؟ امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری سے کیا رشتہ ہے؟ پیر سید جماعت علی شاہ سرکار رحمۃ اللہ علیہ سے کیا رشہ ہے؟ پیر سید مہر علی شاہ سرکار گولڑوی سے کیا رشتہ ہے؟ جنہوں سے سرکار دوعالم رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت جب خواب میں کی تو جاگ کر کہا

؎ کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں

انہوں نے اس پنجابی نعت میں نبی اکرم شفیع معظم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان فرمایا ہے۔ انہی عشقِ رسول کی انمٹ لہروں کا رشتہ عوام الناس کو ان تمام بزرگوں سے ہے۔ ان بزرگوں نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارا ۔ ان کے ان نیک کاموں کی وجہ سے عشق و رحمت کے فوارے جاری ہوئے۔ انہوں نے انسانیت دوستی کا درس دیا۔ انہوں نے سچے اور کھرے دین اسلام کا ہدایت والا پیغام لوگوں تک اپنی بساط کے مطابق پہنچایا۔ آج ان کے چرچے ہیں۔ ان کے عرس بھی ہوتے ہیں اوران کے مزارات پر قرآن خوانی بھی ہوتی ہے۔ ان کے درباروں سے ملحق مسجدوں میں عبادت الٰہی بھی ہوتی ہے اور وہاں مدارس میں قال اللہ و قال رسول اللہ کی صدائیں بھی گونجتی ہیں۔

کچھ ایسے بدبخت لوگ بھی انسانی تاریخ کا حصہ ہیں جو بجائے خود انسانیت کے لیے باعثِ عار ہیں۔ جن کی مذموم حرکتوں سے حضرت انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ایسے ظالم لوگوں میں سے ایک خبیث کا نام راج پال تھا۔ اس کا نام ان بدبختوں میں آتا ہے جنہوں نے شمع عشق رسول کے پروانوں کو دعوتِ مبارزت دی اور ان کے عشق کا امتحان لینا چاہا۔ کفار ہمیشہ سے یہ نکتہ سمجھے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کا سرمایہ "عشق رسول " ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا۔
؎ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
اسی سرمایہء ملت کو ایک بار پھر چیلنج کیا گیا۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے ایک خاص بندے کو اس ملعون کا کام تمام کرنے کے لیے چن لیا۔1929 سے پہلے علم دین کے نام کو کون جانتا تھا؟ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال جیسے فلسفی اور محقق کو کس ناخواندہ ترکھانوں کے بیٹے پر رشک آنا تھا؟ لوگ کہتے ہیں کہ اقبال کو نوبل پرائز اس لیے نہ ملا کہ وہ صرف امت مسلمہ کے شاعر تھے۔ حالانکہ اقبال جیسی عظیم ہستی ان دنیا داروں کے نوبل پرائز کی محتاج نہ تھی۔ انہیں نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی شمع میں جل جانے والے غازی علم الدین شہید پر رشک آیا۔ ان کے لیے تہنیت کا پیغام عاشق رسول ہونے کا لقب تھا۔ ان کی آنکھیں یورپ کی چکا چوند کی بجائے خاکِ مدینہ و نجف کو اپنا سُرمہ بنانا چاہتی تھی۔ امام اہل سنت مولانا احمد رضاخان قادری نے کہا تھا۔
؎ کیوں تاجدارو! خواب میں دیکھی کبھی یہ شےء
جو آج جھولیوں میں غلامانِ در کی ہے

آج دعوت نظارہ ہے کہ دن کے وقت دنیا کے بادشاہوں کی قبروں پہ جا کر دیکھ لو! ویرانی ان کا مقدر ہے۔ اور آج رات کے وقت غازی علم دین شہید کے مزار پر بھی جا کر دیکھ لو! اکیس سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ان پڑھ نوجوان کی قبر پہ مفسر قرآن، محدث، علامہ، مفتی، ڈاکٹر، وکلاء اور ججوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ غازی علم دین شہید کے مقدمے میں انگریز ججوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے دلائل کو پسِ پشت ڈال کر اپنا حکم نامہ جاری کردیا تھا۔ اور دوسری وضاحت یہ کہ قائد اعظم پر یہ الزام کہ انہوں نے غازی کے کیس کے لیے کثیر رقم مسلمانانِ پاک و ہند کی جیبوں سے نکلوا لی تھی یہ بھی جھوٹا ہے۔ یہ بہتان بد بختوں کے خبث باطن کا آئینہ دار ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے حضرت قائد اعظم نے حضرت علامہ محمد اقبال کو اپنی چیک بک دے کر کہا تھا کہ غازی کے لیے جتنے پیسے چاہیئں وہ یہاں خود لکھ لو!!!!!
آج غازی علم دین کے چاہنے والوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں غازی ملک ممتاز حسین قادری کو بھی یاد رکھنا چاہئیے اور ان کی رہائی کے لیے بھر پور کوشش کرنا مسلمانوں کا فریضہ ہے

جمعہ، 4 اکتوبر، 2013

دنیا کا چوہدری اور گستاخانہ فلم

چوہدری چھوٹی چھوٹی بات پر کمیوں (غریبوں) کو ڈانٹتا۔ جب چاہتا گالیاں دیتا۔ کمیوں کی اور ان کے جذبات کی توہین کر کے رکھ دیتا۔ وقتاً فوقتاً ایسے واقعات بھی ہوتے جب کمیوں کی خوبصورت لڑکی چوہدری کی ہوس کا شکار بھی ہو جاتی۔ کئی دفعہ کوئی کمی یا اس کا جوان جوشیلا بیٹا احتجاج بھی کرتا۔ کبھی کبھار معاملات یہاں تک پہنچ جاتے کہ چوہدری قتل بھی کر دیا جاتا۔ کئی دفعہ اس جوان کے جوش کو محلاتی سازشیں ”ہائی جیک“ کر لیتی تو کئی دفعہ چوہدری کے دیگر حریف جوان کے جوش سے فائدہ اٹھا جاتے۔ چوہدری کے قتل ہونے کی صورت میں چوہدری کی آل اولاد اس قاتل کو سزا کے طور پر قتل کرتے یا بذریعہ قانون کرواتے، کیونکہ چوہدری امیر ہوتے، قانون و قاضی چوہدری کے ہی تیار کردہ جو ہوتے۔ چوہدری لوگ پراپیگنڈہ کرتے۔ یوں ظالم مظلوم بن جاتا اور دوسری طرف کمی، بیٹی کی عزت لٹوا کر، جوان بیٹا گنوا کر در بدرکی ٹھوکریں کھا رہا ہوتا۔ وقت تیزی سے گذرتا اور پھر وہی سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا، جس میں چوہدری چوہدری ہوتا۔
کمیوں کو سب نظر بھی آتا، ساری کہانی سے واقف بھی ہوتے مگر آخر ایسی کونسی وجہ تھی کہ سب خاموشی سے اپنا تماشا بنتے دیکھتے رہتے؟ اس خاموشی کی سب سے پہلی وجہ کمیوں کا متحد نہ ہونا۔ بس یہ سوچ کر چپ کر جانا کہ چلو ہم تو محفوظ ہیں۔ دوسری اور اہم وجہ ان کی غریبی تھی۔ ظاہر ہے جب چوہدری کے محتاج تھے اور چوہدری کی ہی زمین پر کام کرنا۔ چوہدری سے لے کر کھانا۔ چوہدری کے تلوے چاٹ کر پیٹ بھرنا ہوتا تو پھر کیسے چوہدری کے خلاف بغاوت کر سکتے تھے۔ اگر کوئی بغاوت کرتا بھی تو بڑے بوڑھے اسے سمجھاتے کہ چپ کر جا نہیں تو روٹی کے لالے پڑ جائیں گے۔ بڑے بوڑھے اپنی جگہ درست بھی ہوتے کیونکہ انہوں نے بچپن سے یہی سیکھا ہوتا کہ بس چوہدری کی خدمت کرو، اس سے لے کر کھاؤ اور ہر بات پر چپ کر جاؤ۔ خیر پھر بھی اگر کوئی بغاوت کرتا، وہ تنہا ہونے کے ساتھ ساتھ غریب بھی ہوتا اور بغاوت کے جرم میں لٹکا دیا جاتا۔
یہ بغاوت ذاتی انتقام کی خاطر ہوتی۔ کوئی معاشرے کی بہتری کے لئے

سرور انبیاء-پیکر دلربا -میں کروں دل کا کیا

اللٰھم صل وسلم وبارک علٰی سیدنا ومولانا محمد وعلٰی آلہ وصحبہ اجمعین۔                  

وہ رسول خدا ،- سرور انبیاء ،- پیغمبر خوش نوا ، -پیکر دلربا ،- سر تا پا دل کشا ،- ذکر جیسے ہو ان کا- زباں سے ادا ، -آئے ٹھنڈی ہوا ،-جیسے باد صبا ، -ہو معطر فضا ، -جب پسینہ بہا ، -مشک و عنبر ہوا ، -وہ حبیب خدا ،-جن کی ہر ہر ادا ،- بن گئی ہے نجا ،- جن کے احکام-احکام رب العلٰی ،- جن کی طاعت بنی- طاعت کبریاء ، -چاہتا ہے رضا ، -جن کی ربُ العُلٰی ،- جن کی خواہش سے- کعبہ ہے قبلہ بنا ، -جن کے قدموں سے- یثرب مدینہ بنا ،- وہ میرے پیشوا ،-وہ تیرے راہ نما ،- میں کہوں اور کیا ، -مجتبٰے ، مصطفٰے۔۔۔

-آؤ مل کر کریں- ذکر صل علٰی ،- مجھ سا بے آسرا ،- ان کے در کا گدا ،- ان کے صدقے پلا ، -وہ کہے اور کیا- اے خدا- اے خدا ،-تیرا ہے شکریہ ،-حمد تیری سدا ،- تو نے مجھ کو کیا -ہے وہ منصب عطا ، -جس کی خاطر رہے- موسٰی کرتے دعا ،- امتی مجھ کو تو نے- شہا کا کیا ،- اس کرم پہ خدا ، -تیری حمد و ثنا ، -میں کروں اب سدا ، -تیری حمد و ثنا ، -سن لے میری دعا ، -ان لبوں پہ سجا ، -ذکر صل علٰی ،-اب یہی ذکر میرا -وظیفہ بنا ، -پیش اس کے سوا ،-میں کروں اور کیا ،- مجتبٰے ، مصطفٰے،- وہ سراپا تیرا ، -جس کو دیکھے بنا ،- سب کے سب ہیں فدا ، -دیکھ لیں جو تیرا -حسن جلوہ نما ،- پھر جو آئے مزا ،- بس کفٰی- بس کفٰی ،- اے شہ انبیاء ،-تو سخی میں گدا ، -ہوں بھلا یا برا ، -امتی ہوں تیرا ،- بس یہ نسبت شہا ، -ہے میرا آسرا ، -ورنہ دامن میں میرے -نہیں کچھ بچا ،- رکھ لے میری لجا ، -اے شہ دو سرا ،-کیونکہ تیری رضا- میں ہے رب کی رضا۔۔۔ ۔
-
بس یہ ہے التجا

حرمت رسول اور اس کے تقاضے 14 اکتوبر 2012 جامعہ اسلامیہ رضویہ ایڈریس شیخ ہسپتال سٹاپ رچنا ٹاؤن روڈ (مرید کے روڈ) لاہور

حرمت رسول اور اس کے تقاضے 14 اکتوبر 2012 جامعہ اسلامیہ رضویہ ایڈریس شیخ ہسپتال سٹاپ رچنا ٹاؤن روڈ (مرید کے روڈ) لاہور
تمام مسلمانوں کو دعوت ہے کہ اپنے نبی پاک صاحبِ لولاک کی شان سننے اور اپنی عملی زندگی کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لیے فکری تربیت کے لیے تشریف لائیں۔۔

علامہ محمد ارشد القادری لاہور میں رہتے ہیں۔ حضرت صاحب 16 فروری 1958 عیسوی کو کوٹ نیناں (تحصیل شکرگڑھ کا ایک گاؤں)میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم جامعہ رسولیہ شیرازیہ بلال گنج لاہور سے علامہ حضرت محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ سے اور قریبی سکول سے حاصل کی۔ اور اعلیٰ تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے جبکہ جامعہ پنجاب لاہورسے تاریخ ، اسلامیات اور عربی میں ایم۔اے کی اسناد حاصل کیں۔ آپ اولڈ راوین بھی رہ چکے ہیں اور گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں۔ آپ نے تنظیم المدارس کے امتحانات میں بھی ریکارڈ قائم کیے۔
فکری تربیت میں آپ جن مبارک ہستیوں سے بلا واسطہ فیض یاب ہوئے۔ ان میں پیر طریقت حضرت علامہ مولانا ابو محمد عبدالرشید قادری رضوی ، علامہ مولانا مفتی عبدالقیوم ہزاروی ، علامہ مولانا مفتی عبدالحکیم شرف قادری(آپ فرماتے ہیں کہ مجھے قلم چلانا علامہ مفتی عبدالحکیم شرف قادری نے سکھایا)، مفسر قرآن علامہ مولانا فیض احمد اویسی ، علامہ مولانا الشاہ احمد نورانی رحمھم اللہ علیھم اجمعین قابل ذکر ہیں۔ آپ نے اپنی ایک کتاب جنت کا راستہ کا انتساب حضرت علامہ مولانا الٰہی بخش ضیائی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے نام کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ

اجتماع, حرمتِ رسول, حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے تقاضے, عظمتِ رسول, لاہور, پریس رپورٹ

۲۶ ذیقعد ۱۴۳۳ بمطابق14 اکتوبر 2012 بروز اتوارکو مرکزِ تعلیم و تربیت جامعہ اسلامیہ رضویہ( شاہ خالد ٹاؤن ، فیروزوالہ، نزد گورنمنٹ انٹر کالج فیروزوالہ) ایک عظیم الشان تربیتی اور روحانی اجتماع بعنوان " حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے تقاضے "ہوا۔ جسے علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زیرِ صدارت تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نے منعقد کیا۔اجتماع میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جس میں ایک کثیر تعداد علماء اسلام ، ائمہ مساجد اور تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کے مبلغین کی تھی۔ اس موقع سب حضرات نے حرمتِ رسول اور عظمتِ رسول کے لیے ہر طرح کی قربانی کا پختہ عزم کیا۔ اور دین کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ اپنی جان و مال کی قربانی دینے کا دعویٰ کیا۔ اور دین کے اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہونے کے ارادے باندھے۔

اجتماع میں نقابت کے فرائض تعلیم و تربیت اسلامی
پاکستان کے مبلغ مولانا محمد عمران قادری اور مولانا مظہر اقبال قادری نے سر انجام دئیے۔ نعت خوانی کی سعادت عبدالغفار صاحب اور جناب نور محمد صاحب کے حصے آئی۔ جبکہ بیانات میں مولانا عمر قادری، علامہ محمد فاروق قادری رضوی ضیائی ، صاحب زادہ احمد رضا القادری،
صاحب زادہ عاکف قادری، اور حضرت علامہ محمد ارشد القادری کا خصوصی خطاب تھا۔ ان خطابات کو اختصار کے ساتھ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

مولانا عمر قادری نے "عقائد اہل سنت نئے دور کی بدعت نہیں ہیں" کے عنوان پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ اللعٰلمین ہونے کو اور بے مثل ہونے کو قرآن و حدیث کی رو سے درست بتایا اور حضرت حسان بن ثابت کی نعت کا حوالہ دے کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل ثابت کیا۔ نبی پاک کی حدیث کے مطابق کہ آپ کو کھلایا پلایا جاتا ہے اس حدیث کے حوالے سے بتایا کہ آپ کو عظیم ترین انسان ، سید البشر اور افضل البشر ماننا نئے عقائد نہیں ہیں۔ عمر قادری نے کہا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری نے اسی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے منکرین کا رد بڑے زور دار طریقے سے کیا۔ کیونکہ اعلیٰ حضرت کے دور میں منکر موجود تھے۔ اُن کی فکر یا عقائد تیرھویں ،چودھویں صدی کی اختراع نہیں۔ اہل سنت کے عقائد دور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، سیرت سے ثابت ہیں۔ اُس دور میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کے منکر نہیں تھے۔

مولانا محمد عمران قادری نے دورانِ نقابت پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کی اس انداز سے تعریف کی کہ حق ادا ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ لیکن عمران قادری نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے لیے اس زمین و آسمان کے اسباب کم ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلندی درجات کو اللہ عزوجل خود قُرآن میں ارشاد فرماتا ہے۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ مدنی تاج دار آقائے نام دار صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل ثناء بیان کر سکے۔ عمران قادری نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کو بڑے ہی دل نشین انداز میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

مولانا مظہر اقبال قادری نے "مختلف نظام ہائے زندگی اور مذاہب کا موازنہ اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے" کے موضوع پر اپنے خیالات اور اسلام کے کمالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں فرمایا کہ آج دُنیا تمام نظام ہائے زندگی کا موازنہ کر کے دیکھے اور بتائے کہ کیا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ نظام سب سے

حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے: مفتی ارشدالقادری

لاہور (پ ر) جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکز تعلیم و تربیت اسلامی میں ”حرمت رسول اور اس کے تقاضے“ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مفتی محمد ارشدالقادری نے کہا کہ حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے گستاخانہ فلم بنانے والے مسلمانوں کے مجرم ہیں ،انہیں سزا دی جائے۔

اہل سنت و جماعت حنفی کامختصر تعارف‘ مختصر تاریخ اور عقاید ملک اظہر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
متحدہ پاک و ہند میں ہمیشہ اہل سنت و جماعت حنفی کی غالب اکثریت رہی ہے۔
سرزمین ہند میں بڑے بڑے نامور اور باکمال علماء و مشائخ پیدا ہوئے
جنہوں نے دین اسلام کی زریں خدمات انجام دیں
اور ان کے دینی اور علمی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
تیرہویں صدی ہجری کے آخر میں افق ہند پر ایک ایسی شخصیت
اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ نظر آتی ہے
جن کی ہمہ گیر اسلامی خدمات اسے تمام معاصرین میں امتیازی
حیثیت عطا کرتی ہیں۔ شخص واحد جو عظمت الوہیت‘ ناموس رسالت‘
مقام صحابہ و اہل بیت اور حرمت ولایت کا پہرا دیتا ہوا نظرآتا ہے۔
عرب و عجم کے ارباب علم جسے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ہماری مراد ہے

آج ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے

پریس۔رپورٹ : موجودہ جمہوریت ایک دغا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور مثالی تھا۔ ان خیالات کا اظہارعلامہ مفتی محمد ارشدالقادری نے فتوحاتِ فاروقی کے عنوان پر خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ وہ گیارہ نومبر بروز اتوار کو جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکز تعلیم و تربیت میں ماہانہ اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ مفتی صاحب نے کہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو کام کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
چیدہ چیدہ نوٹس
از قلم: عبدالرزاق قادری

ماہ ذی الحج کی ۲۸ یا محرم الحرام کی یکم کو امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔ جنگِ قادسیہ کے حوالے سے چند گزارشات کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑے انسان اور سب سے عظیم منتظم ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوبکر اعلیٰ درجے پر تھے۔ ان کا تیقن، ان کا تقویٰ اور ان کا سکینہ بے مثال تھا۔ حضرت ابوبکر کا طریق تھا کہ ایک بندے کے ذمہ کوئی ذمہ داری لگا کر دوبارہ باز پُرس نہ فرماتے بلکہ وہ آدمی خود ہی اس کام کو سر انجام دیتا۔ جبکہ حضرت عمر باز پُرس فرماتے۔ دوسرے افراد کے ذریعے نگرانی کرواتے، اطلاع منگواتے اور اگر کام ٹھیک نہ ہوتا تو معطل فرما دیتے۔ آپ کے اس طرزِ عمل پر مؤرخین کی مختلف آراء ہیں۔ میں کتب تواریخ مثلاً البدایہ والنھایہ ، طبری، محمد حسین ہیکل ، نواز احمد، شبلی، ابن خلدون اور سلیمان بلند پوری کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حضرت عمر کا ہر فیصلہ ہی حق تھا۔آپ کا انداز سب سے زیدہ مؤثر رہا۔ اگرچہ اس میں سختی چھلکتی تھی۔ لیکن ہر فیصلہ حق تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ حضرت ابوبکر کے وقت تک اسلامی خلافت کا رقبہ دس لاکھ مربع میل تھا۔ اور عہد فاورقی کے بعد چھبیس لاکھ مربع میل، یعنی سولہ لاکھ مربع میل کا اضافہ ہوا۔ انبیاء کے بعد اتنا بڑا حکمران کسی ماں نے پیدا ہی نہیں کیا۔ آپ فرماتے تھے ۔ جماعت کے بغیر اسلام نہیں۔ امیر کے بغیر جماعت نہیں۔ اور اطاعت کے بغیر امیر نہیں۔ 

کوئی خاندا ن یا قوم کیا کام کرتی ہے اور اس کا نتیجہ کیا آتا ہے یہ ان کی جماعت، امیر اور اس کی اطاعت پر منحصر ہے۔ اسلام کوئی مجسم چیز تو نہیں جو کسی کو دکھایا جاسکے، بلکہ اسلام کے ماننے والے انسان ہی کسی کو دکھائے جا سکتے ہیں۔ اگر جماعت ہو امیر نہ ہو تو کام نہیں ہوتا۔ اور اگر امیر ہو اور اطاعت نہ ہوتو کام آگے نہیں بڑھتا۔
حضرت عمر کا طرز:
دس بندوں پر ایک امیر مقرر فرماتے جو ان میں علم و فضل، تقویٰ و طہارت اور عقل و فہم میں برتر ہوتا ۔
پھر دس امیروں پر ایک امیر ا لاُمراء مقرر فرما دیتے۔ امیر اپنے بندوں سے اور امیرالامراء اپنے تابع امیروں سے پُرسش فرماتے۔
آج کے دور میں سب لوگ نجی کاموں میں مصروف ہو چکے ہیں اگر سب اپنے اپنے ذاتی کاموں میں مصروف ہو جائیں تو اجتماعی تحفظ کا کام کون کرے گا۔ ارتباطِ باہمی سے ہی کام ہوتا ہے۔ 
مفتی صاحب نے کہا عزت کا تعلق مال و دولت سے نہیں بلکہ اعلیٰ کردار سے ہوتا ہے۔

Money is not the status, Status is the Character.
We all are the Muslims,
We all are the purely slaves of the
Beloved Muhammad Mustafa 
Darling of Allah.

انہوں نے اپنی تقریر میں خوبصورت اشعار کا استعمال بھی کیا۔ جیسا کہ
؂ غلامِ مصطفی بن کر میں بک جاؤں مدینے میں
محمد نام پر سودا، سرِ بازار ہوجائے
انہوں نے کہا کسی نے مجھ سے پوچھا تھا
موجودہ جمہوریت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
میں نے کہا
This democracy is totally fraud.
یہ راستہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں تھوڑے پیسے خرچ کرکے بعد میں زیادہ کمانے کا لالچ ہوتا ہے۔ یہ قوموں کی خدمت کا راستہ نہیں۔ اس سے قوموں کی خدمت نہیں ہوتی۔ 
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا نے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ آپ بہترخوراک لیں۔ آپ کی قوم کو زیادہ ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا ایک بیٹی ہونے کے ناطے آپ کی رائے ٹھیک ہے۔ مگر میں وہی کھاؤں گا جو قوم کے عام فرد کھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کے مطالعہ سے مجھے یہ سمجھ میں آیا کہ چھبیس لاکھ مربع میل کے آخری کونے پر بیٹھا انسان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ سائے کی طرح سمجھتا تھا۔ خود احتسابی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی باز پرس کی فکر ہوتی تھی۔ ہمارے مخالفین مغربی مصنفین نے لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کے پاس ایک عمررضی اللہ عنہ اور ہوتا یا جتنا عرصہ ان کو وقت ملا، اتنا اور مل جاتا تو دنیا میں صرف اسلام اور مسلمان ہی مسلمان ہوتے۔ یہ سب کچھ اس نظم کی بدولت تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر خطاب فرماتے حتیٰ کہ اگر کوئی الفاظ گننا چاہتا تو گن لیتا۔
میں نے اپنی زندگی میں مولانا شاہ احمد نورانی کو دیکھا کہ ان کی الفاظ پر گرفت ہوتی، لب و لہجے میں شستگی اور بر موقع ادھر اُدھر کے دلائل کی بجائے قرآن کی آیت پڑھ دیتے۔
لوگ کہتے ہیں۔ مستشرقین کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔ آج میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ 
سن ۱۴ ہجری محرم الحرام کو جب سلطنتِ فارس اور سلطنتِ روما آپس میں لڑے اور بکھر گئے۔ تو ایرانیوں نے اپنی ملکہ سے استعفیٰ لے لیا۔ اور اکیس سالہ شہزادے یزد گرد بن شہریار بن کسریٰ کو تخت پر بٹھا دیا۔ اس کا اتنا شاندار استقبال کیا، اتنا سراہا کہ کہ پوری قوم کو بادشاہ کے گرد گھما دیا۔
رُستم سے کہا کہ تم قوم سے کہو۔ اگر بادشاہ کہے تو مسلمانوں پر حملہ کر دو۔ تو کردو۔ اور مدینۃالنبی کو فتح کر لو۔ اس نے بڑھک مار دی۔ جب یہ پیغام مدینے تک پہنچا تو حضرت عمر نے خود کمانڈ سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ بعض نے لکھا کہ ایک منزل تک خودساتھ بھی گئے تھے۔ حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبیدہ بن جراح اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم نے آپ کو مرکز میں رہنے کا مشورہ دیا۔ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کے جانے سے اسلام کو نقصان ہو سکتا ہے۔ آپ نے تمام صوبوں کے حاکموں کو خط لکھ کر فرمایا تھا کہ جہاں کوئی گھوڑے والا اور عاقل ہے اسے میرے پاس بھیج دو۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نجد سے خط لکھا کہ میں ایک ہزار عقلاء کو لے کر مدینہ طیبہ آ رہا ہوں
دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا
اے عمر رضی اللہ عنہ! وہ آگیا ہے جس کی ضرورت تھی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا
آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے۔ ان سے فرمایا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔
ان سے فرمایا کہ آپ اپنے خاندانی پس منظر کو مٹا دیں تاکہ آپ کے اور دیگر لوگ (جو آپ کی کمانڈ میں ہیں )ان کے مابین انہیں کوئی تفریق محسوس نہ ہو۔ 
زیادہ سے زیادہ لشکر چوبیس ہزار سے تیس ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ 
وقت کے اختصار کے پیش نظر مفتی صاحب نے مختصر بتایا کہ قادسیہ کے مقام پر لشکر نے قیام کیا۔ اُدھر رستم کو اطلاع ملی۔ آپ نے ایک وفد رستم کی طرف بھیجا اس کو پیغام بھیجا کہ ایک دن مر جانا ہے۔ اسلام قبول کر لو۔ یہ امن کا دین ہے۔ تمہارا عہدہ قائم رکھیں گے۔
لوگو دیکھو! اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا۔ جہاد سلطنت کی وسعت کے لیے نہیں ہوا۔ مال و دولت کے لیے نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ کا دین پھیلانے کے لیے ہوا۔ 
وفد گیا۔ رستم نے بات ہی نظر انداز کر دی۔ نہ جزیہ دینا قبول کیا۔ اور نہ ہی اسلام قبول کیا۔ حضرت نعمان جو وفد کے امیر تھے انہوں نے جنگ کا عندیہ دے دیا۔
ایرانیوں کا ایک لاکھ تیس ہزار کا لشکر تھا۔ کیل کانٹے سے لیس۔ بڑے بڑے ہاتھیوں کی لمبی لمبی قطاریں تھیں۔ قادسیہ سے مدائن کے تخت دو رویہ قطار تھی۔ میدانِ جنگ کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ قطار کے ذریعے تخت تک جاتی۔ اتنے انتظامات تھے۔ اور مسلمانوں کی صرف تیس ہزار تعدادتھی۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام اپنی قوتِ صداقت، دیانت ، شرافت اور حق ہونے کی وجہ سے پھیلا۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تصدق پھیلا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وجہ سے

اسلام تلوار کے زور پر نہیں، قوت ایمانی صداقت اور عشق مصطفی کے زور سے پھیلا: مفتی محمد ارشد القادری

لاہور (پ ر) جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکزی تعلیم و تربیت اسلامی کے ماہانہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد ارشد القادری نے کہا کہ حضرت عمرؓ کا دور مثالی دور تھا اور صحابہؓ کے دور میں جتنا بھی اسلام پھیلا ہے تلوار کے زور سے نہیں بلکہ قوت ایمانی، صداقت اور عشق مصطفی سے پھیلا ہے۔ انہوں نے موجودہ جمہوریت کو ایک دھوکہ اور فراڈ قرار دیا۔ آج ہمیں حضرت عمرؓ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔